کس لیے ارد گرد کھینچ لیے
دائرہ دائرہ دَر و دیوار
Related posts
-
حمایت علی شاعر
پھر مری آس بڑھا کر مجھے مایوس نہ کر حاصلِ غم کو خدا را غمِ حاصل... -
حمایت علی شاعر
تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی کس طرح انتقام لیا اپنے... -
حمایت علی شاعر
اس دشتِ سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے چمکی جو ذرا دھوپ تو جلنے لگے سائے
